منگل 14 جولائی 2026 - 01:39
نئی نسل کی تربیت اور کربلا کا سبق

حوزہ / واقعۂ کربلا ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ حق کی کامیابی تعداد، وسائل یا ظاہری طاقت کی مرہونِ منت نہیں ہوتی بلکہ خلوصِ نیت، ایمان اور استقامت اس کی حقیقی بنیاد ہیں۔

محمد ایوب، جامعۃ النجف سکردو

حوزہ نیوز ایجنسی | اللہ تعالیٰ نے ہر قوم کی ترقی، استحکام اور مستقبل کو اس کی نئی نسل سے وابستہ کیا ہے۔ اگر نوجوان نسل علمی، فکری اور اخلاقی اعتبار سے مضبوط ہو تو قوم ترقی کی راہ پر گامزن ہوتی ہے، اور اگر وہ فکری انتشار، اخلاقی کمزوری اور بے مقصدیت کا شکار ہو جائے تو معاشرے کے زوال کا آغاز ہو جاتا ہے۔

آج کی نوجوان نسل بے شمار چیلنجز سے دوچار ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، سوشل میڈیا کے منفی اثرات، فکری انتشار اور شناخت کا بحران نوجوانوں کی شخصیت کو متاثر کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں یہ سوال نہایت اہم ہے کہ ان مسائل کا حل کیا ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ مسائل کا حل صرف جدید علوم میں ہی نہیں، بلکہ تاریخ کے روشن اور سبق آموز واقعات میں بھی موجود ہے۔ اگرچہ نئی نسل کی تربیت عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق ہونا ضروری ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اسے دینی، اخلاقی اور تاریخی اقدار سے بھی آراستہ کرنا ناگزیر ہے۔ نوجوانوں کو سب سے پہلے صبر، استقامت، ایثار اور حق پر ثابت قدم رہنے کا درس دینا ہوگا، اور اس عظیم تربیت گاہ کا نام کربلا ہے۔

واقعۂ کربلا ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ حق کی کامیابی تعداد، وسائل یا ظاہری طاقت کی مرہونِ منت نہیں ہوتی، بلکہ خلوصِ نیت، ایمان اور استقامت اس کی حقیقی بنیاد ہیں۔ امام حسینؑ نے ظلم و جبر کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کے بجائے عزت و آزادی کا راستہ اختیار کیا اور پوری انسانیت کو یہ پیغام دیا کہ باطل کے سامنے جھکنے سے بہتر ہے حق پر ثابت قدم رہتے ہوئے ہر قربانی پیش کی جائے۔

تاریخ محض ماضی کے واقعات کا مجموعہ نہیں، بلکہ آئندہ نسلوں کے لیے ایک زندہ درسگاہ اور عبرت کا سرچشمہ ہے۔ جو قومیں اپنی تاریخ سے سبق حاصل کرتی ہیں، وہی ترقی اور سربلندی کی منازل طے کرتی ہیں۔ اگر آج کے نوجوان کے اندر کربلا کا صبر، استقامت، حوصلہ اور مقصدیت پیدا ہو جائے تو وہ ایک غیر معمولی اور باکردار انسان بن سکتا ہے۔

آج کا دور شدید مسابقت، مادہ پرستی اور ظاہری کامیابیوں کی دوڑ کا دور ہے۔ دولت، شہرت اور آسائش کی خواہش میں انسان اکثر اپنے حقیقی مقصدِ حیات کو فراموش کر دیتا ہے۔ حالانکہ حقیقی کامیابی اس وقت حاصل ہوتی ہے جب انسان جدید علوم و ٹیکنالوجی سے بھی آراستہ ہو اور ساتھ ہی معرفتِ الٰہی، ایمان، اخلاق اور کردار کی دولت بھی اپنے اندر پیدا کرے۔

ایک صالح معاشرے کی بنیاد باہمی احترام، محبت اور احساسِ ذمہ داری پر استوار ہوتی ہے۔ غریب، کمزور اور محروم افراد کا احترام، انسانی احساسات کی قدر اور خاندانی و سماجی رشتوں کی پاسداری ایک مہذب معاشرے کی پہچان ہیں۔ اگر ہم دوسروں کی عزتِ نفس کو مجروح کریں اور احساسِ انسانیت کو کمزوری سمجھنے لگیں تو معاشرہ اخلاقی زوال کا شکار ہو جائے گا۔ اسی لیے اسلام ہر معاملے میں اعتدال، توازن اور میانہ روی کی تعلیم دیتا ہے۔

اسی طرح ترقی کا مفہوم اپنی دینی اور تہذیبی اقدار سے بے زاری نہیں، بلکہ اچھی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے منفی رسم و رواج کی اصلاح کرنا ہے۔ اپنی ثقافت، خاندان اور سماجی روابط سے کٹ کر کوئی قوم حقیقی ترقی حاصل نہیں کر سکتی۔

نتیجہ

نئی نسل ہی قوم کا حقیقی سرمایہ اور مستقبل ہے۔ اگر ہم نے اسے صرف ڈگریاں دیں لیکن کردار، ایمان، بصیرت اور اخلاق سے محروم رکھا تو معاشرے کو تعلیم یافتہ مگر بے مقصد افراد ملیں گے۔ لیکن اگر ہم نے نوجوانوں کو کربلا کا پیغام، صبر و استقامت کا جذبہ، حق شناسی، اعتدال اور خدمتِ انسانیت کا شعور عطا کیا تو یہی نسل مستقبل میں ایک باوقار، مضبوط اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد بنے گی۔ کیونکہ قومیں صرف ٹیکنالوجی سے نہیں، بلکہ اعلیٰ کردار، مضبوط ایمان اور بلند اخلاق سے تعمیر ہوتی ہیں، اور ان اوصاف کی بہترین درسگاہ کربلا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha